ایمان کی لزت
عقل و شعور جس کی بنا پر انسان کو اشرف المخلوقات کہا گیا، یہی عقل ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم اس دنیا میں کیوں پیچھے رہ گئے ہیں؟ اور ہمارا مقصد حیات کیا ہے؟ بے شک اسلام کا حقیقی تصور عبادت و بندگی ہے۔ عبادت سے مراد خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ رب العزت کی تعظیم کرتے ہوئے اس کی اطاعت و فرماں برداری کرنا ہے۔ یوں تو فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں مگر نفس کے ہوتے ہوئے نفس کو مار کر اور اسے لگام دے کر اللہ کے حضور جھکنے کا لطف ہی الگ ہے اور یہ لطف ملائک کے حصے میں نہیں آیا، بل کہ انسان جسے خلیفہ بنایا گیا، نفس سے نوازا گیا اہل نفس ہونے کی بنا پر اسے تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا اور پھر اس کے اختیار کرنے والے کے لیے بے پناہ اجر و ثواب کی نوید بھی سنائی گئی۔ اگر تقویٰ کو عبادت کا حُسن کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اختیار کرو۔‘‘ (سورۃ الحشر) تقویٰ اختیار کرنے والوں کو بشارت دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے، مفہوم: ’’ جو شخص اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا، اللہ اس کے لیے راستہ پیدا کر دے گا اور اسے وہاں سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو گا۔‘‘ تقویٰ اختیار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ا...