اشاعتیں

مئی, 2022 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ایمان کے درجہ

 ہمارے دین کے 3 عناصر ہیں جن کے مجموعے سے دین بنتاہے لفظ عناصر اور کلمہ مراتب بظاہر ان میں فرق یہ ہے کہ عناصر سے کسی شئی کی ہیئت وماہیت تشکیل پاتی ہے جس میں ایک عنصر کے عدم سے کل معدوم ہوجاتاہے ۔     لفظ مراتب میں اس طرف ایماء ہوتاہے کہ اس شئی کے کئی درجات ہیں ۔بعض اعلیٰ اور بعض ادنیٰ مگر ہر درجہ اور مرتبہ میں شخص اس  شئی کے دائرے سے نہیں نکلتا۔اندر ہی رہتاہے ،جیسے علم کے مراتب اعلیٰ اور ادنیٰ ،مگر ہر مرتبہ میں شخص عالم ہی رہے گا ۔عالم کے دائرے سے باہر نہیں جائے گا۔     احسان کے درجات :اعلی اور ادنیٰ۔ جو جس مرتبہ میں ہوگا احسان کے دائرے سے باہر نہیں نکلے گامگر ارکان مراتب سے کچھ یوں مختلف ہوتے ہیں کہ ایمان کے ارکان پورے ہوں گے تو بندہ مؤمن ہوگا۔     کسی عنصر یا رکن کے نہ ہونے سے ایمان معدوم ہوجائے گا۔اب دین کے3 رکن جن سے ہمارے دین کی ہیئت ترکیبیہ تشکیل پاتی ہے ، اس کا تذکرہ حدیث جبریل میں موجود ہے۔     حدیث جبریل حدیثی مجموعہ میں ایک اہم مقام رکھتی ہے اور تمام جامعین سنن اور محدثین نے اس کو خصوصی مقام دیا ہے کیونکہ یہ حدیث ہمارے پورے دی...

ایمان کا ادنیٰ و اعلیٰ درجہ کیا ہے؟

حدیث جبریل میں احسان کے مفہوم میں ایمان ادنیٰ  و اعلیٰ درجے کو بہت عمدگی سے بیان کیا گیا ہے۔ جب جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ احسان کیا ہے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم     نےفرمایا : اَنْ تَعْبُدَ اﷲِ کَأنَّکَ تَرَاه، فَاِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاهُ فَاِنَّه يَرَاکَ. ’’(ایمان کا اعلیٰ درجہ یعنی احسان یہ ہے) کہ تم اللہ کی عبادت و بندگی اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو۔ اور (ایمان کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ) اگر تم اس کو نہیں دیکھتے تو (یہ یقین رکھو کہ) وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔‘‘ بخاري، الصحيح، کتاب الايمان، باب سوال جبرئيل عليه السلام، 1 : 27، رقم : 50 حدیث جبریل میں مذکور لفظ عبادت سے اگر کسی کو یہ گمان ہو کہ عبادت اور بندگی سے مراد وہی امور ہیں جنہیں عرف عام میں عبادات سے تعبیر کیا جاتا ہے مثلاً نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ اور انہی عبادات کا بجا لانا انسانی زندگی کا نصب العین ہے تو یہ تصور غلط ہے۔ قرآنی تصورِ عبادت اور اسلامی مفہوم بِرّ اس قدر وسیع ہے کہ یہ انسان کی فکری اور عملی زندگی کے تمام گوشوں کو محیط ہے۔ اسلام کا پیش کردہ تصورِ بندگی انسانی زندگی کو درج ...

ایمان کے انعمات

”حضرت عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے کہ میں نے خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے سنا ہے، آپ ارشاد فرماتے تھے، کہ ”جو کوئی شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت و بندگی کے لائق نہیں ہے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں، تو اللہ نے اس شخص پر دوزخ کی آگ حرام کر دی ہے۔“(مسلم شریف) ہم اور آپ روزانہ پانچ وقت کی نماز میں کئی بار سورہ فاتحہ پڑھتے ہیں جس میں بار بار اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگتے ہیں: اہدنا الصراط المستقیم۔ اے اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا اور پھر سیدھے راستے کی تشریح بھی زبان پر لاتے ہیں صراط الذین انعمت علیہم یعنی ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا۔ معلوم ہوا کہ ہمیں صراط مستقیم کو تلاش کرنے کے لیے ان لوگوں کے بارے میں آگاہی حاصل کرنی ہوگی جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا یا جنھیں اللہ رب العزت نے انعام کا مستحق قرار دیا چنانچہ اس وقت بات ایمان لا نے والوں کے متعلق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کیا انعام مقرر فرمایا۔ مشکوٰۃ شریف میں کتاب الایمان کی پہلی حدیث جو حدیث جبرئیل کے نام سے محدثین کے نزدیک مشہور ہے۔ اس میں حضرت جبرئیل علیہ ا...

کانٹینٹ رایٹنک

       کانٹینٹ رایٹنگ کے لیے میرے تین اہم نیشز            صحت؛تعلیم؛اور سیاست یہ ہے                                                          1سیاست کی تین اقسام  سیاست کی  کئی اقسام ہیں۔کہیں بادشاہت ہے تو کہیں مغربی جمہوریت۔کہیں فوجی حکومت ہے تو کہیں مذہبی حکومت۔کسی ملک میں یک جماعتی کمیونسٹ حکومت ہے تو کہیں کثیر الجماعتی جاگیردارانہ حکومت۔پاکستان میں گذشتہ سترسال میں دو طرح کی سیاست رہی ہے۔ جمہوری سیاست اور عسکری سیاست، پاکستانیوں نے فیلڈ مارشل ایوب خان،جنرل یحییٰ ،جنرل ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے مارشل لاء بھی دیکھے اور سرمایہ دارانہ جمہوریت بھی دیکھی۔ لیکن زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد۔ اہل زرہی اہل زور بنے اور اہل زور ہی اہل زر بنے۔ عملی طور پر سیاست کی تین اقسام ہیں۔           نظریاتی ،مصالحاتی اور مفاداتی۔              ...

ایمان و کفر کا بیان

تصویر
  Toggle navigation Home   Iman O Kufr ایمان اسے کہتے ہیں   کہ سچے دل سے اُن سب باتوں   کی تصدیق کرے جو ضروریاتِ دین ہیں   اور کسی ایک ضرورتِ دینی کے  انکار کو کفر کہتے ہیں   ، اگرچہ باقی تمام ضروریات کی تصدیق کرتا ہو۔ ضروریاتِ دین وہ مسائلِ دین ہیں   جن کو ہر خاص و عام جانتے ہوں   ، جیسے  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی وحدانیت، انبیا کی نبوت، جنت و نار، حشر و نشر وغیرہا [1] ، مثلاً یہ اعتقاد کہ حضور اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ   وَسَلَّمَ خاتم النبیین ہیں   ، حضور  ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ   وَسَلَّمَ  )  کے بعد کوئی نیا نبی نہیں   ہوسکتا۔ [2]   عوام سے مراد وہ مسلمان ہیں   جو طبقۂ علما میں   نہ شمار کیے جاتے ہوں   ، مگر علما کی صحبت سے شرفیاب ہوں   اور مسائلِ علمیہ سے ذوق رکھتے ہوں   [3] ، نہ وہ کہ کوردہ [4]   اور جنگل اور پہاڑوں   کے رہنے والے ہوں   جو کلمہ بھی صحیح نہیں   پڑھ سکتے، کہ ایسے لوگوں   کا ضروریاتِ دین سے ناو...

مسلمان ہو کر بھی ہمارا ایمان کمزور کیوں

ہمارے ایمان کی کمزوری کا بڑا سبب منافقت، حسد اور اعتقادی اختلافات ہیں جس کی وجہ سے عمل کے ہر میدان میں مسلسل بگاڑ واقع ہو رہا ہے اور ہماری اعلیٰ اخلاقی قدریں کمزور پڑ رہی ہیں اور حالت یہ ہوگئی ہے کہ ہم مصلحت، ذاتی منفعت اور دنیاوی فائدے کی خاطر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشنودی نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم نے نفسانی خواہشات کو اپنا معبود اور دنیاوی نفع کو اپنا مقصود بنا رکھا ہے، اگر ایک راہ ہدایت کی طرف جاتی ہے اور دوسری رسم و رواج کی طرف تو ہم دوسری راہ کو اختیار کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ ظاہراً ہمارے چہروں سے زہد و ورع، پرہیزگاری اور تقویٰ نظر آ رہا ہوتا ہے لیکن اپنے باطن میں جھانکیں تو ہمیں اپنے سے بڑا کوئی جھوٹا، مکار اور منافق نظر نہیں آئے گا، اسی دوغلے پن اور دوہرے معیار کی وجہ سے مسلمان ہو کر بھی ہمارا ایمان کمزور ہے۔ واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

ایمان کامل

انسانوں کو جو سبق بار بار پڑھایا جاتا ہے اسے وہ بھول جاتا ہے اس سبق کو ذہن نشین کرانے کے لئے اﷲ کریم نے انبیاءاور رسول پیدا کئے۔ یہ انسان تھے مگر ہر لحاظ سے کامل اور خطاں سے پاک و معصوم ... .                 دنیا میں تقریباً سوا لاکھ  انبیاءو رسل اﷲ نے بھیجے۔ ان سب کے آخر میں ہمارے آقا و مولا سیدنا محمدﷺ تشریف لائے آپ پر نبوت و رسالت کا سلسلہ مکمل ہو گیا۔ آپ کے بعد کوئی نبی دنیا میں نہیں آئے گا۔ آپ پر نازل ہونے والی مقدس کتاب قرآن مجید اور آپ کا اسوہ¿ حسنہ جن کو سنت کہا جاتا ہے انسانوں کی رہنمائی اور ہدایت کے لئے کافی ہیں۔ یہ اﷲ نے محفوظ کر دئیے ہیں ان میں کوئی رد و بدل نہیں ہو سکتا۔ ایک شخص جو کلمہ طیبہ پڑھ لیتا ہے وہ مسلمان کہلاتا ہے اور اس پر مکمل عمل کرے تو بندہ مومن کہلاتا ہے۔ ایک مومن ہر چیز سے زیادہ اﷲ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔ اپنی‘ اولاد‘ ماں باپ اور تمام انسانوں سے زیادہ اسے اﷲ اور اس کے رسول محبوب ہوتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ نبی پاک کے امتی ساتھی اور دوست تھے وہ آپ کے سچے پیروکار تھے۔ انہوں نے اپنا سب کچھ آپ کی ذات اور آپ کے ا...

ایک صحابی کا ایمان افروز واقعہ

سرکارِ دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہما کے درمیان تشریف فرما تھے کہ ایک یتیم جوان شکایت لیئے حاضر خدمت ہوا۔ کہنے لگا یا رسول اللہ؛ میں اپنی کھجوروں کے باغ کے ارد گرد دیوار تعمیر کرا رہا تھا کہ میرے ہمسائے کی کھجور کا ایک درخت دیوار کے درمیان میں آ گیا۔ میں نے اپنے ہمسائے سے درخواست کی کہ وہ اپنی کھجور کا درخت میرے لیئے چھوڑ دے تاکہ میں اپنی دیوار سیدھی بنوا سکوں، اُس نے دینے سے انکار کیا تو میں نے اُس کھجور کے درخت کو خریدنے کی پیشکس کر ڈالی، میرے ہمسائے نے مجھے کھجور کا درخت بیچنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس نوجوان کے ہمسائے کو بلا بھیجا۔ ہمسایہ حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے نوجوان کی شکایت سُنائی جسے اُس نے تسلیم کیا کہ واقعتا ایسا ہی ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے فرمایا کہ تم اپنی کھجور کا درخت اِس نوجوان کیلئے چھوڑ دو یا اُس درخت کو نوجوان کے ہاتھوں فروخت کر دو اور قیمت لے لو۔ اُس آدمی نے دونوں حالتوں میں انکار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات کو ایک بار پھر دہرایا؛ کھجور کا درخت اِس نو...

موجود حالات میں قرآن کی راہنمائی

  قران سے معلوم ھوا مال اور اولاد دونوں اللہ کی ازماہش ہے اَلحَمدُ لِلّٰہِ نَحمَدُہ، وَنَستَعِینُہ، وَنَستَغفِرُہ، وَنَعُوذُبِاللّٰہِ مِن شُرُورِ اَنفُسِنَاوَمِن سَیِّئَآتِ اَعمَالِنَا مَن یَھدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہ، وَمَن یُضلِلْہُ فَلَا ھَادِیَ لَہ، وَاَشھَدُ اَن لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحدَہ، لَا شَرِیکَ لَہ، وَاَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبدُہ وَرَسُولُہٗ۔فاِنَّ اَصدَقَ الحَدِیثِ کِتَابُ اللّٰہِ وَخیرُ الھَدیِ ھَدیُ مُحَمَّد ﷺ۔وَّ شَرُّ الْامُورِ مُحدَثاتُھَا وَ کُلُّ مُحدَثَۃٍ بِدعَۃٌ وکُل بِدعَۃٌ ضَلَالَۃ و کُلُّ ضَلَالَۃٍ فِی النَّارِ۔ فأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْم۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمْ۔ لَتُبْلَوُنَّ فِیْ أَمْوَالِکُمْ وَأَنفُسِکُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتَابَ مِن قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ أَذًی کَثِیْراً وَإِن تَصْبِرُواْ وَتَتَّقُواْ فَإِنَّ ذَلِکَ مِنْ عَزْمِ الأُمُورِ(آل عمران: ۱۸۶) ’’تمھیں مال و جان دونوں کی آزمائشیں پیش آکر رہیں گی اور تم اہلِ کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف...