اشاعتیں

ایمان کی لزت

  عقل و شعور جس کی بنا پر انسان کو اشرف المخلوقات کہا گیا، یہی عقل ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم اس دنیا میں کیوں پیچھے رہ گئے ہیں؟ اور ہمارا مقصد حیات کیا ہے؟ بے شک اسلام کا حقیقی تصور عبادت و بندگی ہے۔ عبادت سے مراد خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ رب العزت کی تعظیم کرتے ہوئے اس کی اطاعت و فرماں برداری کرنا ہے۔ یوں تو فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں مگر نفس کے ہوتے ہوئے نفس کو مار کر اور اسے لگام دے کر اللہ کے حضور جھکنے کا لطف ہی الگ ہے اور یہ لطف ملائک کے حصے میں نہیں آیا، بل کہ انسان جسے خلیفہ بنایا گیا، نفس سے نوازا گیا اہل نفس ہونے کی بنا پر اسے تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا اور پھر اس کے اختیار کرنے والے کے لیے بے پناہ اجر و ثواب کی نوید بھی سنائی گئی۔ اگر تقویٰ کو عبادت کا حُسن کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔  اختیار کرو۔‘‘ (سورۃ الحشر) تقویٰ اختیار کرنے والوں کو بشارت دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے، مفہوم: ’’ جو شخص اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا، اللہ اس کے لیے راستہ پیدا کر دے گا اور اسے وہاں سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو گا۔‘‘ تقویٰ اختیار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ا...

خاندان اور خون کی پہچان*

سلطان محمود غزنوی کا دربار لگا ھوا تھا. دربار میں ہزاروں افراد شریک تھے جن میں اولیاء قطب اور ابدال بھی تھے۔ سلطان محمود نے سب کو مخاطب کر کے کہا کوئی شخص مجھے حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت کرا سکتا ہے.. سب خاموش رہے دربار میں بیٹھا اک غریب دیہاتی کھڑا ہوا اور کہا میں زیارت کرا سکتا ہوں .سلطان نے شرائط پوچھی تو عرض کرنے لگا 6 ماہ دریا کے کنارے چلہ کاٹنا ہو گا لیکن میں اک غریب آدمی ہوں میرے گھر کا خرچا آپ کو اٹھانا ہو گا . سلطان نے شرط منظور کر لی  اس شخص کو چلہ کے لیے بھج دیا گیا اور گھر کا خرچہ بادشاہ کے ذمے ہو گیا. 6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان نے اس شخص کو دربار میں حاضر کیا اور پوچھا تو دیہاتی کہنے لگا حضور کچھ وظائف الٹے ہو گئے ہیں لہٰذا 6 ماہ مزید  لگیں گے. مزید 6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان محمود کے دربار میں اس شخص کو دوبارہ پیش کیا گیا تو بادشاہ نے پوچھا میرے کام کا کیا ہوا.... ؟ یہ بات سن کے دیہاتی کہنے لگا بادشاہ سلامت کہاں میں گنہگار اور کہاں  حضرت خضر علیہ السلام میں نے آپ سے جھوٹ بولا .... میرے گھر کا خرچا پورا نہیں ہو رہا تھا بچے بھوک سے مر رہے تھے اس لیے ایسا کرنے پ...

ایمان کے درجہ

 ہمارے دین کے 3 عناصر ہیں جن کے مجموعے سے دین بنتاہے لفظ عناصر اور کلمہ مراتب بظاہر ان میں فرق یہ ہے کہ عناصر سے کسی شئی کی ہیئت وماہیت تشکیل پاتی ہے جس میں ایک عنصر کے عدم سے کل معدوم ہوجاتاہے ۔     لفظ مراتب میں اس طرف ایماء ہوتاہے کہ اس شئی کے کئی درجات ہیں ۔بعض اعلیٰ اور بعض ادنیٰ مگر ہر درجہ اور مرتبہ میں شخص اس  شئی کے دائرے سے نہیں نکلتا۔اندر ہی رہتاہے ،جیسے علم کے مراتب اعلیٰ اور ادنیٰ ،مگر ہر مرتبہ میں شخص عالم ہی رہے گا ۔عالم کے دائرے سے باہر نہیں جائے گا۔     احسان کے درجات :اعلی اور ادنیٰ۔ جو جس مرتبہ میں ہوگا احسان کے دائرے سے باہر نہیں نکلے گامگر ارکان مراتب سے کچھ یوں مختلف ہوتے ہیں کہ ایمان کے ارکان پورے ہوں گے تو بندہ مؤمن ہوگا۔     کسی عنصر یا رکن کے نہ ہونے سے ایمان معدوم ہوجائے گا۔اب دین کے3 رکن جن سے ہمارے دین کی ہیئت ترکیبیہ تشکیل پاتی ہے ، اس کا تذکرہ حدیث جبریل میں موجود ہے۔     حدیث جبریل حدیثی مجموعہ میں ایک اہم مقام رکھتی ہے اور تمام جامعین سنن اور محدثین نے اس کو خصوصی مقام دیا ہے کیونکہ یہ حدیث ہمارے پورے دی...

ایمان کا ادنیٰ و اعلیٰ درجہ کیا ہے؟

حدیث جبریل میں احسان کے مفہوم میں ایمان ادنیٰ  و اعلیٰ درجے کو بہت عمدگی سے بیان کیا گیا ہے۔ جب جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ احسان کیا ہے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم     نےفرمایا : اَنْ تَعْبُدَ اﷲِ کَأنَّکَ تَرَاه، فَاِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاهُ فَاِنَّه يَرَاکَ. ’’(ایمان کا اعلیٰ درجہ یعنی احسان یہ ہے) کہ تم اللہ کی عبادت و بندگی اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو۔ اور (ایمان کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ) اگر تم اس کو نہیں دیکھتے تو (یہ یقین رکھو کہ) وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔‘‘ بخاري، الصحيح، کتاب الايمان، باب سوال جبرئيل عليه السلام، 1 : 27، رقم : 50 حدیث جبریل میں مذکور لفظ عبادت سے اگر کسی کو یہ گمان ہو کہ عبادت اور بندگی سے مراد وہی امور ہیں جنہیں عرف عام میں عبادات سے تعبیر کیا جاتا ہے مثلاً نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ اور انہی عبادات کا بجا لانا انسانی زندگی کا نصب العین ہے تو یہ تصور غلط ہے۔ قرآنی تصورِ عبادت اور اسلامی مفہوم بِرّ اس قدر وسیع ہے کہ یہ انسان کی فکری اور عملی زندگی کے تمام گوشوں کو محیط ہے۔ اسلام کا پیش کردہ تصورِ بندگی انسانی زندگی کو درج ...

ایمان کے انعمات

”حضرت عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے کہ میں نے خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے سنا ہے، آپ ارشاد فرماتے تھے، کہ ”جو کوئی شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت و بندگی کے لائق نہیں ہے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں، تو اللہ نے اس شخص پر دوزخ کی آگ حرام کر دی ہے۔“(مسلم شریف) ہم اور آپ روزانہ پانچ وقت کی نماز میں کئی بار سورہ فاتحہ پڑھتے ہیں جس میں بار بار اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگتے ہیں: اہدنا الصراط المستقیم۔ اے اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا اور پھر سیدھے راستے کی تشریح بھی زبان پر لاتے ہیں صراط الذین انعمت علیہم یعنی ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا۔ معلوم ہوا کہ ہمیں صراط مستقیم کو تلاش کرنے کے لیے ان لوگوں کے بارے میں آگاہی حاصل کرنی ہوگی جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا یا جنھیں اللہ رب العزت نے انعام کا مستحق قرار دیا چنانچہ اس وقت بات ایمان لا نے والوں کے متعلق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کیا انعام مقرر فرمایا۔ مشکوٰۃ شریف میں کتاب الایمان کی پہلی حدیث جو حدیث جبرئیل کے نام سے محدثین کے نزدیک مشہور ہے۔ اس میں حضرت جبرئیل علیہ ا...

کانٹینٹ رایٹنک

       کانٹینٹ رایٹنگ کے لیے میرے تین اہم نیشز            صحت؛تعلیم؛اور سیاست یہ ہے                                                          1سیاست کی تین اقسام  سیاست کی  کئی اقسام ہیں۔کہیں بادشاہت ہے تو کہیں مغربی جمہوریت۔کہیں فوجی حکومت ہے تو کہیں مذہبی حکومت۔کسی ملک میں یک جماعتی کمیونسٹ حکومت ہے تو کہیں کثیر الجماعتی جاگیردارانہ حکومت۔پاکستان میں گذشتہ سترسال میں دو طرح کی سیاست رہی ہے۔ جمہوری سیاست اور عسکری سیاست، پاکستانیوں نے فیلڈ مارشل ایوب خان،جنرل یحییٰ ،جنرل ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے مارشل لاء بھی دیکھے اور سرمایہ دارانہ جمہوریت بھی دیکھی۔ لیکن زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد۔ اہل زرہی اہل زور بنے اور اہل زور ہی اہل زر بنے۔ عملی طور پر سیاست کی تین اقسام ہیں۔           نظریاتی ،مصالحاتی اور مفاداتی۔              ...

ایمان و کفر کا بیان

تصویر
  Toggle navigation Home   Iman O Kufr ایمان اسے کہتے ہیں   کہ سچے دل سے اُن سب باتوں   کی تصدیق کرے جو ضروریاتِ دین ہیں   اور کسی ایک ضرورتِ دینی کے  انکار کو کفر کہتے ہیں   ، اگرچہ باقی تمام ضروریات کی تصدیق کرتا ہو۔ ضروریاتِ دین وہ مسائلِ دین ہیں   جن کو ہر خاص و عام جانتے ہوں   ، جیسے  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی وحدانیت، انبیا کی نبوت، جنت و نار، حشر و نشر وغیرہا [1] ، مثلاً یہ اعتقاد کہ حضور اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ   وَسَلَّمَ خاتم النبیین ہیں   ، حضور  ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ   وَسَلَّمَ  )  کے بعد کوئی نیا نبی نہیں   ہوسکتا۔ [2]   عوام سے مراد وہ مسلمان ہیں   جو طبقۂ علما میں   نہ شمار کیے جاتے ہوں   ، مگر علما کی صحبت سے شرفیاب ہوں   اور مسائلِ علمیہ سے ذوق رکھتے ہوں   [3] ، نہ وہ کہ کوردہ [4]   اور جنگل اور پہاڑوں   کے رہنے والے ہوں   جو کلمہ بھی صحیح نہیں   پڑھ سکتے، کہ ایسے لوگوں   کا ضروریاتِ دین سے ناو...