ایمان کے انعمات
- ”حضرت عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے کہ میں نے خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے سنا ہے، آپ ارشاد فرماتے تھے، کہ ”جو کوئی شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت و بندگی کے لائق نہیں ہے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں، تو اللہ نے اس شخص پر دوزخ کی آگ حرام کر دی ہے۔“(مسلم شریف)
- ہم اور آپ روزانہ پانچ وقت کی نماز میں کئی بار سورہ فاتحہ پڑھتے ہیں جس میں بار بار اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگتے ہیں: اہدنا الصراط المستقیم۔ اے اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا اور پھر سیدھے راستے کی تشریح بھی زبان پر لاتے ہیں صراط الذین انعمت علیہم یعنی ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا۔
معلوم ہوا کہ ہمیں صراط مستقیم کو تلاش کرنے کے لیے ان لوگوں کے بارے میں آگاہی حاصل کرنی ہوگی جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا یا جنھیں اللہ رب العزت نے انعام کا مستحق قرار دیا چنانچہ اس وقت بات ایمان لا نے والوں کے متعلق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کیا انعام مقرر فرمایا۔
مشکوٰۃ شریف میں کتاب الایمان کی پہلی حدیث جو حدیث جبرئیل کے نام سے محدثین کے نزدیک مشہور ہے۔ اس میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نے سوال وجواب کے ذریعہ صحابہ کرام کو دینی تعلیمات سے آگاہ کیا ان سوالات میں ایک سوال حضرت جبرئیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمایا اخبرنی عن الایمانکہ مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے کہ ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ان تؤمن باللہ ومَلئکتِہٖ وکتبِہٖ ورسلہٖ والیوم الاخِرِوَالقدرخیرِہٖ وَشرہٖیعنی ایمان کہتے ہیں اللہ اور اس کے فرشتوں، اللہ کی نازل کردہ کتابوں اور اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پرا ور اچھی اوربری تقدیر کو صدق دل سے ماننا،اگر ان میں سے ایک چیز کے بارے میں بھی ایمان نہ ہوتو وہ شخص مؤمن ہی نہیں رہتا۔
ایمان لانے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا انعام یہ ہے کہ اوٰلءِک ھم المفلحونیہی لوگ کامیاب ہیں۔ کسی بھی انسان کے لیے آخرت میں کامیاب ہونے سے بڑا انعام اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ لیکن ایمان لانے والے کو دنیا میں بھی بہت سے انعامات میسر آجاتے ہیں بلکہ ایمان کے پانچ اجزاء میں ہر جز پر ایمان لانے سے الگ الگ فائدے نظر آتے ہیں۔
عقیدۂ توحید ہی کو لیجئے یعنی اللہ کو ایک ماننا اس بات کا ایمان انسان کو عزت نفس عطا کرتاہے انسان جب یہ یقین کرلیتا ہے کہ اس کا خالق اور مالک اللہ ہے وہی طاقت کاسرچشمہ ہے اور وہی قادر مطلق ہے تو اس بات پر ایمان لانے کے بعد انسان صرف اللہ کے سامنے جھکتا ہے اور اسی سے ڈرتاہے اب اس کی پیشانی انسانوں یا پتھر کی بے جان مورتیوں کے سامنے نہیں جھکتی۔
اللہ پر ایمان رکھے کے بعد انسان کو عجزوانکساری جیسی دولت انعام میں ملتی ہے کہ یہ انسان پھر اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ اس کے پاس جو کچھ دیا ہوا ہے سب اسی مالک حقیقی کا ہے، جو خدا دینے پرقادر ہے وہ چھین لینے پر بھی قادر ہے لہٰذا بندے کے لیے تکبر اورغرور کرنے کی گنجائش نہ رہی اس لیے یہ عجزو انکساری ہی سے کام لے گا تب اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والے کووسعت نظری کی دولت نصیب ہوتی ہے کیونکہ یہ انسان اس رحمن اور رحیم پرایمان رکھتا ہے جو کائنات کی ہر چیز کا خالق ہے سب کو اپنی رحمتوں سے نوازتا ہے چنانچہ اللہ پر ایمان رکھنے والے کی ہمدردی، محبت اور خدمت کا جذبہ پوری دنیا کے لیے عام ہوجاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والے کے دل سے دوسروں کا خوف نکل جاتا ہے اور وہ بہادری اور استقامت کی خوبیوں والا بن جاتا ہے چاہے بدر کی لڑائی ہو یا حنین وخندق کی۔ ہرمؤمن کا ایمان ہوتا ہے کہ تمام ظاہر اور پوشیدہ باتوں کو اللہ جانتا ہے، بندہ جانتا ہے کہ میں چھپ کر بھی گناہ نہیں کرسکتا اب مومن کو تقویٰ اور پرہیز گاری اسی ایمان لانے کی بدولت نصیب ہوئی۔ معاشرہ اسی وقت صحیح معنوں میں انسانی معاشرہ بن سکتا ہے جب لوگوں کے اعمال درست ہوں‘ انسان کے تمام اعمال اس کے دل کے تابع ہوتے ہیں اگر دل میں ایمان کی روشنی موجود ہوتو عمل صالح ہوگا اگر کوئی شخص زبان سے ایمان کا دعویٰ کرتا ہے مگر اس کے اعمال اچھے نہیں تو یہی سمجھا جائے گا کہ ایمان اس کے دل کی گہرائیوں میں پوری طرح رَچانہیں۔
نیک اعمال میں اگر کوئی روکاوٹ نظر آئے تو وہ اس وجہ سے بھی ہوسکتا ہے کہ آخرت پر اس شخص کا ایمان کمزور ہے کیونکہ آخرت پر ایمان لانے سے انسان کے دل میں نیکی پر جزا اور بدی کی سزا ھوتا ہے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں